صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے اسلام آباد میں سیف سٹی کیمروں اور سرویلنس انفراسٹرکچر کے تحفظ کے تحفظ اور انہیں پہنچنے والے نقصان کی تلافی سے متعلق آرڈیننس کی منظوری دے دی ہے۔
ایوانِ صدر سے جاری بیان کے مطابق آرڈیننس کی منظوری وزیرِ اعظم کی ایڈوائس پر دی گئی ہے۔
نئے قانون کے تحت سیف سٹی کیمروں یا دیگر سرویلنس انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچانے، اس پر اکسانے یا اس کی ترغیب دینے پر مالی جرمانہ عائد کیا جا سکے گا۔
کسی کیمرے یا سرویلنس انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچانے کی صورت میں فی کیمرا یا انفراسٹرکچر20 لاکھ روپے تک جرمانہ عائد کیا جا سکے گا۔
آرڈیننس کے مطابق جلسے، جلوس، دھرنے، احتجاج، ہڑتال یا کسی اجتماع کے دوران سیف سٹی انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچنے کی صورت میں اس کے منتظمین کو بھی نقصان کا ذمہ دار قرار دیا جا سکتا ہے۔
واضح رہے کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی جانب سے اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کے اعلان کے بعد شہر اقتدار گزشتہ ایک ہفتے سے احتجاج اور مظاہروں سے ‘نمٹنے’ کی تیاری کر رہا ہے۔ پارٹی نے 27 ستمبر کو مارچ کرنا تھا، جو گزشتہ شب ملتوی کرنے کے بعد اکتوبر 5 کی کال دی گئی ہے۔
