ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے اعلان کیا ہے کہ ایران اقوام متحدہ کے ایٹمی معائنہ کاروں کو دوبارہ ایران میں آنے کی اجازت دینے کے لیے تیار ہے۔
امریکی نشریاتی ادارے سی بی ایس نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے ایرانی صدر کا کہنا تھا کہ اگر معائنہ کار ایران آ کر معائنہ کرنا چاہتے ہیں تو اس مخصوص معاملے پر مذاکرات کے دوران باہمی اتفاق اور معاہدے تک پہنچا جا سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایران اگر کوئی وعدہ کرے گا تو اسے نبھائے گا، امریکا کے ساتھ جوہری پروگرام پر پابندیوں کے حوالے سے مذاکرات کیلئے تیار ہیں، جوہری پروگرام مکمل طور پر ختم کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
مسعود پزشکیان نے کہا کہ ایران امریکا کے ساتھ جنگ جاری نہیں رکھنا چاہتا ، فیصلہ امریکا کو کرنا ہے کہ وہ جنگ ختم کرنا چاہتا ہے یا نہیں۔ اگر اختلافات مذاکرات کے ذریعے حل ہو سکتے ہیں تو ایک دوسرے کو قتل کرنے کی ضرورت نہیں، تاہم نیا معاہدہ بین الاقوامی قانونی دائرہ کار میں ہونا چاہیے۔
ایرانی جوہری تنصیبات پر حملوں کے بعد ایران نے انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے ساتھ تعاون محدود کر دیا تھا، ایران کا مؤقف رہا ہے کہ جنگ سے متاثرہ تنصیبات کی سکیورٹی صورتحال کے باعث وہاں فوری معائنے ممکن نہیں، اور اس کے لیے خصوصی طریقہ کار طے کیا جانا چاہیے۔
