وفاقی حکومت نے ملک میں گاڑیوں کی خریداری کو عام آدمی کی دسترس میں لانے اور مشکلات کا شکار آٹو صنعت کو دوبارہ فعال کرنے کے لیے نئی “آٹو انڈسٹری ڈیولپمنٹ اینڈ ایکسپورٹ پالیسی 2026-31” کے تحت متعدد انقلابی تجاویز پر غور شروع کر دیا ہے۔
اسٹیٹ بینک آف پاکستان اور آٹو انڈسٹری کے اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ زیرِ بحث اس پالیسی کے مطابق، گاڑیوں کی فنانسنگ کی مدت کو بڑھا کر 7 سال کرنے، ڈاؤن پیمنٹ کو کم کر کے 15 فیصد تک لانے اور مقامی طور پر تیار کردہ گاڑیوں کے لیے کار فنانسنگ کی حد ایک کروڑ روپے تک مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
یہ اقدامات بلند شرح سود اور گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باعث متاثر ہونے والی صارفین کی قوتِ خرید کو بحال کرنے کے لیے تجویز کیے گئے ہیں تاکہ مارکیٹ میں گاڑیوں کی فروخت میں ایک بار پھر اضافہ کیا جا سکے۔
مجوزہ پالیسی میں صارفین کے حقوق کے تحفظ کے لیے بھی سخت شرائط شامل کی گئی ہیں، جن کے تحت گاڑیوں کی بکنگ پر قیمت کو فکس کر دیا جائے گا اور بکنگ کی رقم کو کل قیمت کے 20 فیصد تک محدود رکھا جائے گا۔
