فرانس میں پرتشدد ہنگاموں اور لوٹ مار کے واقعات پر قابو پانے کیلئے پیرس کے وسطی علاقوں اور دیگر شہروں کے بعض حصوں میں رات کے وقت کرفیو نافذ کر دیا گیا جبکہ توڑ پھوڑ میں ملوث اڑھائی ہزار افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔
فرانس میں ستمبر کے وسط میں پیرس کے شمالی مضافات میں طلبہ نے اساتذہ کی کمی اور اسکولوں کی ناقص عمارتوں کے خلاف احتجاج شروع کیا جو بعد ازاں یہ مہنگائی، ایندھن کی بڑھتی قیمتوں، عدم مساوات اور عوامی خدمات کی خراب صورتحال کے خلاف ملک گیر مظاہروں میں تبدیل ہو گیا۔
برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی نے پیرس پولیس کے حوالے سے بتایا کہ پلیس دے لا ریپبلک، جہاں ہفتے کے اختتام پر مظاہرین جمع ہوئے تھے، میں رات 11 بجے سے صبح 6 بجے تک کرفیو نافذ رہے گا۔ شہر کے کئی دیگر حصوں میں غیر مجاز اجتماعات پر بھی پابندی عائد کر دی گئی ہے۔
🇫🇷 Parisians critical of curfews aimed at restoring order after riots
In the Les Halles district of Paris, residents are pushing back against a newly imposed nighttime curfew in parts of the capital. https://t.co/jWBltxcnCo
— AFP News Agency (@AFP) October 20, 2026
جنوبی فرانس کے شہروں مارسیلی، بورڈو، نیس اور لیون سمیت شمالی شہر لِل اور دیگر قصبوں میں بھی جزوی کرفیو نافذ کرنے کا اعلان کرتے ہوئے مختلف مقامات پر نوجوانوں کی نقل و حرکت اور اجتماعات کو محدود کر دیا گیا ہے۔
