اسلام آباد کی خصوصی اینٹی ریپ عدالت نے سوتیلی بیٹی کو ایک سال تک ریپ کا نشانہ بنا کر اسے حاملہ کرنے کے جرم میں ملزم افتخار احمد خان کو سزائے موت سنا دی۔
واقعہ کا مقدمہ متاثرہ لڑکی کی والدہ کی شکایت پر5 فروری 2025 کو تھانہ شہزاد ٹاؤن اسلام آباد میں ملزم افتخار احمد خان کے خلاف تعزیرات پاکستان کی دفعہ 376 کے تحت درج کیا گیا تھا۔
ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج-I اور خصوصی اینٹی ریپ عدالت، ایسٹ اسلام آباد کے جج محمد سہیل نے فیصلہ سناتے ہوئے قرار دیا کہ ملزم کے خلاف متاثرہ لڑکی کی گواہی، طبی شواہد اور ڈی این اے رپورٹ جرم ثابت کرنے کے لیے کافی ہیں۔
عدالتی فیصلے کے مطابق متاثرہ لڑکی کی والدہ نے اپنے شوہر کے خلاف فروری 2025 میں درج کی گئی ایف آئی آر میں بتایا تھا کہ اس کا شوہر تقریباً ایک سال تک اس کی بیٹی کو ریپ کا نشانہ بناتا رہا۔ ایسا آخری بار یکم فروری 2025 کو ہوا جس کے بعد متاثرہ لڑکی کو شدید تکلیف کے باعث اسپتال لے جایا گیا جہاں انکشاف ہوا ہے کہ وہ تقریباً 5 ماہ کی حاملہ ہے۔ اس کے 2 دن بعد والدہ نے پولیس سے رجوع کیا۔
