برطانیہ کے شہر پورٹس ماؤتھ میں پاکستانی انڈر 19 کرکٹ ٹیم کو پناہ کے متلاشی افراد سمجھ کر ہوٹل کے باہر نقاب پوش مظاہرین جمع ہوگئے تاہم حقیقت سامنے آنے پر مظاہرین چند منٹ میں منتشر ہوگئے۔
برطانوی اخبار گارڈین کے مطابق ہوٹل کے باہر نقاب پوش افراد کا ایک گروپ اس اطلاع کے بعد جمع ہوا کہ پناہ کے متلاشی افراد کو ہوٹل میں ٹھہرایا گیا ہے تاہم بعد میں معلوم ہوا کہ ہوٹل میں پاکستان کی انڈر 19 کرکٹ ٹیم قیام پذیر ہے جو دورہ انگلینڈ پر موجود ہے۔
واقعے کے دوران ریفارم پارٹی کے کونسلر جارج میڈوک نے صورتحال کو معمول پر لانے کے لیے ہوٹل کا رخ کیا۔ میڈوک ہیمپشائر کونسل میں ریفارم گروپ کی قیادت کرتے ہیں اور ان کے وارڈ میں مذکورہ ہوٹل بھی شامل ہے۔
جارج میڈوک کے مطابق انہیں منگل کی شام گھر پر موجودگی کے دوران اطلاع دی گئی کہ تقریباً 40 افراد ہوٹل کے باہر جمع ہیں اور ان میں سے کئی نے چہرے ڈھانپ رکھے ہیں۔ انہیں بتایا گیا کہ یہ افراد ممکنہ طور پر پناہ کے متلاشی افراد کی ہوٹل میں موجودگی کے خلاف جمع ہوئے ہیں۔

میڈوک ہوٹل پہنچے جہاں انہوں نے ہوٹل کے منیجر سے بات کی۔ منیجر نے انہیں صورتحال سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ ہوٹل میں پاکستان کی انڈر 19 کرکٹ ٹیم کے ارکان قیام پذیر ہیں جو جنوبی ساحلی علاقے کے دورے پر ہیں اور ہوٹل کو اپنے قیام کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔
