سوشل میڈیا پر دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ پنجاب حکومت نے ٹریفک قوانین میں تبدیلی کرتے ہوئے مخصوص خلاف ورزیوں پر 2 لاکھ روپے تک جرمانہ نافذ کر دیا ہے۔
حقیقت کیا ہے؟
فیکٹ چیک سے معلوم ہوا ہے کہ پنجاب حکومت نے واقعی پنجاب موٹر وہیکل آرڈیننس 1965 میں چوتھی ترمیم کے ذریعے ٹریفک جرمانوں میں نمایاں اضافہ کیا ہے، تاہم یہ تاثر درست نہیں کہ ہر معمولی خلاف ورزی پر فوراً 2 لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا جا رہا ہے۔
دستاویزات اور متعلقہ حکام کے مطابق 2 لاکھ روپے تک جرمانہ صرف مخصوص اور سنگین خلاف ورزیوں پر رکھا گیا ہے، جن میں خطرناک ڈرائیونگ، گاڑی میں غیرقانونی تبدیلی، جعلی رجسٹریشن، یا ایسی خلاف ورزیاں شامل ہیں جو انسانی جان کے لیے سنگین خطرہ بن سکتی ہوں۔
