عالمی ادارۂ صحت نے اعلان کیا ہے کہ جمہوریہ کانگو میں جاری مہلک ایبولا وائرس کے علاج کے لیے ممکنہ ادویات کی آزمائشی تحقیق کا باقاعدہ آغاز کر دیا گیا ہے۔ اس تحقیق کے تحت پہلے مریض کو شامل کر لیا گیا ہے، جسے ماہرین وبا پر قابو پانے کی جانب اہم پیش رفت قرار دے رہے ہیں۔
عالمی ادارۂ صحت کے سربراہ نے بتایا کہ اس وقت تک ملک میں ایک ہزار 460 سے زائد مریضوں میں ایبولا کی تصدیق ہو چکی ہے، جبکہ 452 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔ اس وائرس کی اس مخصوص قسم کے لیے تاحال نہ کوئی منظور شدہ حفاظتی ٹیکہ موجود ہے اور نہ ہی کوئی باقاعدہ علاج دستیاب ہے۔
یہ آزمائشی تحقیق عالمی ادارۂ صحت کی سرپرستی میں کی جا رہی ہے، اس کی نگرانی جمہوریہ کانگو کے قومی طبی تحقیقی ادارے، بیلجیم کے ادارۂ امراضِ استوائی اور برطانیہ کی آکسفورڈ یونیورسٹی کے سائنس دان مشترکہ طور پر کر رہے ہیں۔
تحقیق کے دوران مریضوں پر وائرس کے خلاف مؤثر سمجھی جانے والی دو مختلف ادویات آزمائی جائیں گی تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ کون سی دوا زیادہ محفوظ اور مؤثر ثابت ہوتی ہے۔
