آئی جی آزاد کشمیر لیاقت علی ملک نے کہا ہے کہ پہلی گولی مظاہرین کی طرف سے چلی ، اے ایس آئی کو روک کر اس پر تشدد کیا گیا، اس کی ٹانگیں توڑی گئیں ، اعلان کیا گیا کہ ہم اسمبلیوں پر حملہ کریں گے۔
چیف سیکرٹری آزاد کشمیر کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے آئی جی نے کہا کہ پولیس کو جوابی فائرنگ کرنے کا پورا قانونی حق حاصل ہے، پولیس کی جوابی فائرنگ سے ایک بندہ زخمی ہوا اور دوسرا ہلاک ہو گیا ، مظاہرین کے سرغنہ کو گولی پیچھے سے لگی، پولیس سامنے تھی۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ مظاہرین کے زخمیوں کی حفاظت پر بھی پولیس اہلکار تعینات تھے، جو پہلی گولی چلی کس نے چلائی، وہاں پولیس کے 2 اہلکار زخمی ہوئے۔
انہوں نے کہا کہ سرکاری ملازمین کو اغوا کرنا، اسپتالوں میں قتل و غارت کرنا، لاشوں کی بے حرمتی کرنا کیا عوامی مسئلہ ہے، بھارتی قونصل خانے کے سامنے پاکستان کا پرچم جلانا کیا عوامی مسئلہ ہے؟ یہ کوئی ایجنڈا ہے جس پر چند مخصوص شر پسند عمل پیرا ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جو فوج آزادی کے لیے لڑ رہی ہے اس کے شہداء کو گالیاں دی گئیں، جو بچوں اور عورتوں کو ڈھال بنا کر احتجاج کر رہا ہے، جو زبردستی مارکیٹس بند کراتا ہے، ان شر پسندوں کے خلاف مقدمات درج کیے گئے ہیں انہیں گرفتار کیا گیا۔
