وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ نے ایک اجلاس کے دوران اگلے مالی سال کے ساڑھے 17 ہزار ارب روپے کے وفاقی بجٹ کی منظوری دے دی ہے۔
ذرائع کے مطابق اجلاس میں وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کابینہ ارکان کو نئے بجٹ کے اہم نکات پر تفصیلی بریفنگ دی۔
ذرائع نے مزید بتایا ہے کہ اس دوران وزیراعظم نے بجٹ تقریر طلب کی جس میں کابینہ کے ممبران کے بعض مطالبات کی روشنی میں کچھ ردو بدل کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
کابینہ سے منظوری کے بعد بجٹ قومی اسمبلی میں پیش کیا جائیگا جس کے بارے میں وزیر اعظم نے کہا ہے کہ بجٹ کو محنت اور خلوص سے تیار کیا گیا ہے، اور اس میں قوم کی فلاح و بہبود کو اولین ترجیح دی گئی ہے
وفاقی وزیر پارلیمانی امورز ڈاکٹر طارق فضل چوہدری کے مطابق قومی اسمبلی کے بعد بجٹ دستاویز شام 5:00 بجے سینیٹ میں پیش کی جائے گی۔
کل 3 بجے بجٹ قومی اسمبلی میں پیش کیا جائے گا
سینیٹ میں 5 بجے بجٹ پیش کیا جائے گا
معاشی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے بجٹ میں عوام کو ہر ممکن ریلیف فراہم کیا جائے گا
مسلم لیگ ن اور اتحادی جماعتوں کے اراکین پارلیمنٹ بجٹ اجلاس میں بھرپور شرکت کریں گے
اپوزیشن کے اراکین کو بجٹ…
— Dr. Tariq Fazal Ch. (@DrTariqFazal) June 11, 2026
نئے مالی سال کے بجٹ میں ٹیکس ریونیو کا مجموعی ہدف 15 ہزار 267 ارب روپے مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ حکومت کو قرضوں پر سود کی ادائیگی کی مد میں 7 ہزار 824 ارب روپے کی بھاری رقم مختص کی جائیگی۔ اس کے علاوہ ملکی دفاع کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے دفاعی بجٹ کا تخمینہ 3 ہزار ارب روپے رکھا جائیگا۔
