اداکارہ صبا فیصل نے پچھلے ہفتے ایک مارننگ شو میں بہوؤں کے بارے میں دیے گئے اپنے متنازعہ بیانات پر وضاحت دیتے ہوئے کہا ہے کہ اُن کے الفاظ کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا گیا، جس کی وجہ سے معاملہ مزید پیچیدہ ہو گیا۔
صبا فیصل نے شو میں مشترکہ خاندانی نظام، ساس کے کردار اور نئی بہو کی ذمہ داریوں پر گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ کسی بھی مشترکہ خاندان میں ساس کا اختیار ناقابلِ سوال ہونا چاہیے۔ اُن کے مطابق سب سے مسئلہ خیز بات یہ ہے کہ نئی بہو اپنے شادی کے کپڑے خود بنوائے، کیونکہ اس سے وہ اپنی پسند کے مطابق لباس پہننا شروع کر دیتی ہے۔
انہوں نے اپنے شوہر کے خاندان کے تجربات بھی بیان کیے، مثلاً کہ اُن کی ساس نے ہمیشہ کہا کہ ہر صبح خوب تیار ہو کر ناشتے کی میز پر جانا چاہیے۔ اُن کے مطابق یہ پرانی اقدار تھیں۔
سوشل میڈیا پر اُن کے قدیم خیالات پر سخت ردعمل آیا۔ کئی لوگوں نے کہا کہ یہ کنٹرول ہے، محبت نہیں، اور کچھ نے سوال کیا کہ ایسی باتیں 2025 میں قومی ٹی وی پر کیسے نشر ہو سکتی ہیں۔
