روس اور برطانیہ کے درمیان سفارتی تعلقات میں ایک بار پھر کشیدگی بڑھ گئی ہے، ماسکو نے جاسوسی کے الزامات عائد کرتے ہوئے ایک برطانوی سفارتکار کو ملک چھوڑنے کی ہدایت دی۔
روسی وزارتِ خارجہ نے کہا کہ اسے اطلاع ملی تھی کہ برطانوی سفارتخانے کا یہ اہلکار برطانوی خفیہ ادارے سے وابستہ ہے، مذکورہ سفارتکارکوملک چھوڑنے کیلئے دو ہفتوں کی مہلت دی گئی۔
اس سلسلے میں برطانوی سفارتخانے کی نائب سربراہِ مشن ڈینیئے دھولاکیا کو روسی وزارتِ خارجہ طلب کیا گیا اور فیصلے سے آگاہ کیا گیا۔
برطانیہ نے روسی اقدام کو ’’شر انگیز، بدنیتی پرمبنی اور بے بنیاد‘‘ قراردیتے ہوئے کہا کہ یہ قدم سفارتی آداب کی خلاف ورزی ہے اورمایوسی کا مظہرہے، برطانوی حکام نے بتایا کہ حکومت اس اقدام کے جواب میں ممکنہ آپشنزپر غورکر رہی ہے۔
روس نے خبردارکیا ہے کہ وہ اپنی سرزمین پربرطانوی انٹیلی جنس اہلکاروں کی سرگرمیوں کو برداشت نہیں کرے گا اور اگر معاملہ مزید بڑھا تو فیصلہ کن ردِعمل دیا جائے گا۔
ماہرین کے مطابق یہ واقعہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب عالمی سفارتی تعلقات پہلے ہی دباؤ کا شکار ہیں اور یورپ میں موجودہ پیش رفت پرشکوک و شبہات موجود ہیں۔
