پاکستان کی معیشت میں استحکام کے آثار نمایاں ہونے لگے ہیں، جہاں براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری، ترسیلاتِ زر، برآمدات اور سرمایہ کاروں کے اعتماد میں قابلِ ذکر بہتری ریکارڈ کی گئی ہے۔
رپورٹس کے مطابق مارچ میں براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (FDI) میں 163 فیصد اضافہ ہوا جبکہ سرمایہ کاری کا حجم 1.35 ارب ڈالر تک پہنچ گیا۔
اسی طرح ملک میں ترسیلاتِ زر بڑھ کر 35.3 ارب ڈالر کی سطح پر پہنچ چکی ہیں اور مالی سال کے اختتام تک ان کے 41 ارب ڈالر تک پہنچنے کی توقع ہے۔
بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کے لیے متعارف کرائے گئے روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ کے ذریعے سرمایہ کاری کا حجم بھی ریکارڈ 12.8 ارب ڈالر تک پہنچ گیا ہے۔
پاکستان میں سرمایہ کاری کے حوالے سے عالمی کمپنیوں کی دلچسپی میں بھی اضافہ دیکھا گیا ہے۔ گوگل، آرامکو، بی وائے ڈی اور ویون کمپنی نے پاکستان میں سرمایہ کاری کے منصوبوں کا اعلان کیا ہے، جبکہ اے ڈی پورٹس، مشرق بینک اور ترکش پیٹرولیم بھی سرمایہ کاری کرنے والی نمایاں کمپنیوں میں شامل ہیں۔
