وزیر اعظم شہباز شریف کے دورہ چین کے موقع پر ہونے والی ملاقاتوں، معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں سے متعلق پاکستان اور چین کا مشترکہ اعلامیہ جاری کر دیا گیا۔
مشترکہ اعلامیے کے مطابق دونوں ممالک نے افغانستان کے معاملے پر ایک دوسرے سے قریبی رابطہ رکھنے پر اتفاق کیا اور پاکستان اور چین کے درمیان اسٹریٹجک تعاون مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کیا گیا۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ کالعدم ٹی ٹی پی، ایسٹ ترکستان اسلامک موومنٹ (ای ٹی آئی ایم) اور کسی گروہ کو کوئی زمین استعمال کرکےعلاقائی سلامتی کو نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں دی جائے گی، کسی گروہ کو دہشتگردی کی سرگرمیاں کرنے کی بھی اجازت نہیں دی جائے گی۔
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق اعلامیے میں کہا گیا کہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے فروغ، ایران اور امریکہ کے درمیان عارضی جنگ بندی میں پاکستان کی کوششوں، اسلام آباد مذاکرات کو سراہا گیا۔
اعلامیے کے مطابق پاکستان نے ون چائنا پالیسی پر مکمل حمایت کا اعادہ کیا اور کہا کہ پاکستان تائیوان کے معاملے پر چین کی مکمل حمایت کرتا ہے۔
چین نے پاکستان کی خودمختاری اور سلامتی کیلئے غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کیا اور سی پیک 2.0 کے اعلیٰ معیار کی ترقی اور گوادر پورٹ کو علاقائی رابطہ مرکز بنانے پر اتفاق کیا گیا۔
