Daily Systematic Metro News Breaking News
پاکستانسائنس اور ٹیکنالوجی

ناکامی سے خدمت تک: عرفان مسعود کا متاثر کن سفر اور سندھ مشن

پاکستان میں موبائل ٹیکنالوجی کے ابتدائی دور سے وابستہ عرفان مسعود کی کہانی ایک ایسے سفر کی عکاسی کرتی ہے جو مسلسل محنت، ناکامیوں اور نئے تجربات سے عبارت ہے۔

2006 میں انہوں نے GSM موبائل ریپئرنگ اور سافٹ ویئر کے شعبے میں قدم رکھا۔ محدود وسائل کے باوجود وہ جاب کے ساتھ ساتھ مختلف شہروں میں جا کر موبائل سروسز فراہم کرتے رہے۔ اس دور میں فون فلیشنگ، ٹونز انسٹالیشن اور کیبل کے ذریعے سافٹ ویئر اپڈیٹ جیسے کام خصوصی مہارت تصور کیے جاتے تھے، جن میں انہوں نے مہارت حاصل کی۔

تین سال کی محنت کے بعد انہوں نے اپنی پہلی دکان قائم کی جہاں موبائل کی خرید و فروخت اور مرمت کا کام شروع کیا، تاہم ایک سال بعد کاروبار بند کرنا پڑا۔ بعد ازاں شراکت داری کے تحت دوبارہ کام شروع کیا گیا، لیکن اختلافات کے باعث وہ بھی ختم ہو گیا۔ اسی عرصے میں ان کے کاروبار کی روزانہ سیل بعض اوقات دو لاکھ روپے تک پہنچ گئی، تاہم استحکام حاصل نہ ہو سکا۔

بعد میں انہوں نے آن لائن کام شروع کیا جو تقریباً چار سے پانچ سال تک جاری رہا، مگر اس میں خاطر خواہ کامیابی حاصل نہ ہو سکی۔

2015 میں انہوں نے ایک بار پھر چھوٹے پیمانے پر کاروبار کا آغاز کیا اور اس بار موبائل EMMC چپس پر کام شروع کیا، جو اس وقت پاکستان میں نسبتاً نیا شعبہ تھا۔ انہوں نے نہ صرف چپس ریپلیسمنٹ بلکہ موبائل اسٹوریج اپگریڈنگ جیسے جدید حل متعارف کروائے، جس کے بعد ہزاروں خراب موبائل فونز دوبارہ قابلِ استعمال بنے۔

بعد ازاں تقریباً 10 لاکھ روپے کی سرمایہ کاری سے انہوں نے ICs کا کاروبار شروع کیا اور ویب سائٹ، سوشل میڈیا اور مارکیٹنگ خود سنبھالی۔ وقت کے ساتھ ان کا کام مارکیٹ میں پہچان بنانے لگا اور ان کا مرکز لاہور کے ہال روڈ تک پہنچ گیا۔

بعد میں سندھ میں ایک بزنس سیمینار کے دوران انہوں نے مقامی GSM ٹیکنیشنز کی مہارتوں کی کمی کو محسوس کیا، جس کے بعد انہوں نے “سندھ مشن — خدمتِ خلق” کا آغاز کیا۔

اس مشن کے تحت انہوں نے تقریباً 30 لاکھ روپے مالیت کے ٹولز اور ضروری سامان تقسیم کرنے کا اعلان کیا اور ایک ایسے پلیٹ فارم کے قیام کی کوشش شروع کی جہاں نوجوانوں کو مفت تربیت اور تکنیکی رہنمائی فراہم کی جا سکے۔

عرفان مسعود کا یہ سفر کاروباری ناکامیوں سے شروع ہو کر ٹیکنالوجی میں جدت اور اب سماجی خدمت تک پہنچتا ہے، جو انہیں ایک ایسے کردار کے طور پر پیش کرتا ہے جو اپنے تجربے کو دوسروں کی بہتری کے لیے استعمال کر رہا ہے۔

Related posts

وزیراعظم شہباز شریف کی ترکیے اور آذر بائیجان کے صدور سے ملاقات

Mobeera Fatima

کوئٹہ شہر میں بحالی کے چند گھنٹوں بعد انٹرنیٹ سروس پھر معطل

Mobeera Fatima

جے یو آئی سپریم کورٹ کے فیصلے کو جزوی طور پر تسلیم کرتی ہے، مولانا فضل الرحمان

Mobeera Fatima

Leave a Comment