مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی مدد سے دنیا بھر میں استعمال ہونے والی پروگرامنگ لینگویج پی ایچ پی (PHP) میں سافٹ ویئر کی سنگین خامیوں کا انکشاف ہوا ہے جس کے بعد یورپ سمیت مختلف خطوں میں سرکاری ویب سائٹس اور آن لائن سروسز بند کردی گئیں۔
پی ایچ پی 1990 کی دہائی کے آغاز میں متعارف کرائی گئی تھی اور آج بھی انٹرنیٹ کے بڑے حصے میں استعمال ہوتی ہے۔ ورڈپریس، ڈروپل، جوملا اور میگینٹو سمیت متعدد معروف ویب پلیٹ فارمز اس پروگرامنگ لینگویج پر انحصار کرتے ہیں۔
پی ایچ پی کے ڈویلپرز نے ان خامیوں کو دور کرنے کے لیے فوری سافٹ ویئر اپ ڈیٹس جاری کردیں اور تمام صارفین کو ہدایت کی کہ وہ بلا تاخیر اپنے سسٹمز اپ ڈیٹ کریں۔
ٹیکنالوجی کمپنیوں نے خبردار کیا ہے کہ بعض ہیکرز ان خامیوں سے فائدہ اٹھانے کی کوششیں شروع کرچکے ہیں۔ ماہرین کے مطابق خامیوں کی تفصیلات اور ان کے حل کی دستیابی کے بعد اے آئی کی مدد سے ان کا فائدہ اٹھانے کے طریقے تلاش کرنا بھی آسان ہوسکتا ہے۔
ڈروپل ایسوسی ایشن کی عبوری چیف ایگزیکٹو ٹفنی فیرس کے مطابق گزشتہ 20 برس میں جاری ہونے والے پی ایچ پی کے مختلف ورژنز استعمال کرنے والے سرورز اس مسئلے سے متاثر ہوسکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس خامی کے اثرات انٹرنیٹ کے بڑے حصے تک پھیل سکتے ہیں۔
