برکس کا سالانہ سربراہی اجلاس بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں آج دوسرے روز بھی جاری ہے۔
11 رکنی برکس سربراہی اجلاس میں ایران اور یوکرین کی جنگوں سمیت عالمی معاشی اور سیاسی صورتحال پر بات چیت متوقع ہے۔
یہ اجلاس ایسے وقت ہو رہا ہے جب جغرافیائی سیاسی کشیدگی میں اضافہ، توانائی کی منڈیوں، بحری نقل و حمل اور عالمی تجارت میں رکاوٹیں پیدا ہو رہی ہیں۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے جمعے کو برکس بزنس فورم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مغربی حریف ’’نامناسب‘‘ انداز میں اپنی سابقہ عالمی قیادت دوبارہ حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
روسی صدر کا کہنا تھا کہ مغرب اقتصادی قیادت برقرار رکھنے کے لیے تنصیبات اور پائپ لائنز کو تباہ کرنے اور بحری جہازوں کو قبضے میں لینے جیسے اقدامات کر رہا ہے۔
چینی صدر شی جن پنگ، روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن اور مسعود پزشکیان برکس سربراہی اجلاس میں شرکت کیلئے نئی دہلی میں موجود ہیں، سربراہی اجلاس سے قبل پیوٹن، مودی اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے درمیان اہم ملاقاتیں ہوئیں۔ جبکہ چینی صدر اور نریندر مودی کے درمیان آج ملاقات ہو گی۔
