صوبائی دارالحکومت لاہور میں پاکستان عوام راج تحریک کے رہنما اور ٹی وی میزبان اقرار الحسن کو ڈی ایچ اے سے مبینہ طور پر حراست لے لیا گیا ۔
اہل خانہ کے مطابق اقرار الحسن کو مبینہ طور پر نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کے اہلکاروں نے حراست میں لیا تاہم ادارے کی جانب سے اب تک ان کی گرفتاری کی تصدیق نہیں کی گئی۔
اقرار الحسن کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ انہیں یہ معلوم نہیں کہ اقرار الحسن کو کس وجہ سے حراست میں لیا گیا ہے۔ ان کے مطابق اس سلسلے میں این سی سی آئی اے کے تھانے سے بھی رابطہ کیا گیا لیکن وہاں سے بھی کوئی معلومات نہیں مل سکیں۔
اقرار الحسن کی موجودہ جگہ اور انہیں حراست میں لیے جانے کی وجوہات تاحال واضح نہیں ہوسکیں۔
دوسری جانب این سی سی آئی اے نے تاحال اقرار الحسن کی گرفتاری کی تصدیق نہیں کی۔ ادارے کے حکام بھی اس معاملے پر مؤقف دینے سے گریزاں ہیں۔
Farah Iqrar narrates the story how her husband Iqrarul Hassan was arrested.👇 https://t.co/T1TaeeIKkI
— Zahid Gishkori (@ZahidGishkori) October 12, 2026
The wives of Awaam Raaj Party leader Iqrar ul Hassan seen consoling each other following his reported disappearance. According to his wife Farah Iqrar, unidentified men took her husband away during the night in Lahore https://t.co/5XFHWR91m3
— Murtaza Ali Shah (@MurtazaViews) October 12, 2026
اس وقت تک کچھ پتہ نہیں کہ اقرار کہاں پر ہے۔۔
— Waseem Badami (@WaseemBadami) October 12, 2026
