روسی تیل خریدنے والے ممالک پر پابندیاں لگانے والے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دوہرا معیار اپناتے ہوئے خود روس سے ڈیزل خریدنے کا معاہدہ کر لیا ہے۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ٹرمپ نے ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں کہا ہے کہ روس عالمی منڈی میں ڈیزل کی فراہمی بڑھانے پر رضامند ہو گیا ہے، جبکہ امریکی انتظامیہ نے روسی ڈیزل کی درآمد پر عائد پابندیوں میں عارضی نرمی کرتے ہوئے 7 اپریل تک اس کی اجازت دے دی ہے۔
ٹرمپ کا کہنا تھا کہ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن سے ان کی ‘انتہائی کامیاب’ گفتگو ہوئی، جس میں روس کی جانب سے فوری طور پر 3 لاکھ میٹرک ٹن سے زیادہ ڈیزل امریکی اور عالمی منڈیوں کو فراہم کرنے پر اتفاق کیا گیا۔ یہ مقدار تقریباً 22 لاکھ 50 ہزار بیرل کے برابر ہے۔
I have just concluded a highly successful discussion with President Vladimir Putin, of Russia, wherein it was agreed that Russia will immediately supply over 300,000 Tons of Diesel Fuel to the American and Global Marketplace, another 500,000 Tons during the month of November, and 1,000,000 Tons immediately thereafter. Additionally, based on the condition of their Diesel Refineries, Russia will then deliver, within a short period of time, 3,000,000 Tons of Diesel Fuel. Between our TOTAL CONTROL of the Strait of Hormuz, and this great announcement on Russian Energy, Diesel Prices for Americans and, indeed, the World, will be COMING DOWN, IN RECORD NUMBERS, AND FAST! Lower prices for Americans, especially our Great Farmers, Ranchers, and Truckers, is my Greatest Priority. This is a very big and important announcement. Additionally, it must be understood, that Iran will not have a Nuclear Weapon! Thank you for your attention to this matter. President DONALD J. TRUMP
( TS: Oct 9 2026, 2:46 PM ET )
— Commentary Donald J. Trump Truth Social Posts On X (@TrumpTruthOnX) October 9, 2026
ٹرمپ کے مطابق روس نومبر میں مزید 5 لاکھ ٹن اور اس کے بعد مزید 10 لاکھ ٹن ڈیزل فراہم کرے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ مزید سپلائی کا انحصار روس کی ڈیزل ریفائنریوں کی صورتِ حال پر ہوگا، جنہیں یوکرین کے حملوں میں نقصان پہنچا ہے۔
