آزاد کشمیر پولیس کے ترجمان خاور شوکت علی نے کہا ہے کہ راولاکوٹ میں احتجاج کے دوران مظاہرین پرتشدد ہو کر پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں پر حملہ آور ہوئے، جس کے باعث ایک رینجرز اہلکار شہید جبکہ 15 پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار زخمی ہوئے۔
ایس ایس پی خاور علی پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ یہ پر امن تحریک نہیں بلکہ مسلح جھتہ بن چکا ہے، جو بھاری اور جدید ہتھیاروں کے ساتھ فورسز کو نشانہ بنا رہا ہے۔ شرپسندوں کے تانے بانے کسی اور جگہ سے ملتے ہیں۔
یہ پریس کانفرنس ایسے موقع پر ہوئی جب آزاد کشمیر میں کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے مظاہروں کے بعد امن و امان کی صورتحال کشیدہ ہو چکی ہے۔ 27 جولائی کو مظاہرین نے اپنے مطالبات کے حق میں راولاکوٹ سے مظفرآباد کی طرف لانگ مارچ کا آغاز کیا ، راولاکوٹ سے گزرتے ہوئے مظاہرین پر مبینہ طور پر فائرنگ اور شیلنگ کی گئی جس میں کئی ہلاکتیں ہوئیں ، خطے میں انٹرنیٹ اور موبائل سروس کو بھی مکمل طور پر بند کر دیا گیا ہے جس سے لوگوں کو کافی مشکلات کا سامنا ہے۔
خاور شوکت نے کہا کہ ریاستی اداروں نے ہمیشہ تحمل کا مظاہرہ کیا لیکن مسلح افراد شہر کی عمارتوں پر مورچہ بند ہو کر پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں پر حملے کرتے رہے۔
