امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی نے خطے اور عالمی معیشت کو خطرے سے دوچار کر دیا ہے۔
رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق رواں ہفتے امریکا نے ایران کے خلاف فضائی حملوں کا نیا سلسلہ شروع کیا، جس کے جواب میں ایران نے خطے میں امریکی تنصیبات کو میزائل اور ڈرون حملوں سے نشانہ بنایا۔
جنگ کا آغاز 28 فروری 2026 کو ہوا تھا
امریکا اور اسرائیل نے 28 فروری کو ایران پر بڑے پیمانے پر حملے شروع کیے تھے، جن میں ایران کے اہم فوجی اور حکومتی اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔ اس حملے میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای بھی مارے گئے، جس کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان کئی ماہ تک جنگ جاری رہی۔
بعد ازاں جون میں امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی کا ایک معاہدہ ہوا، تاہم یہ زیادہ دیر برقرار نہ رہ سکا۔ جولائی میں دوبارہ جھڑپیں ہوئیں اور امریکا نے ایران سے متعلق بحری ناکہ بندی اور اقتصادی دباؤ میں اضافہ کردیا۔
