وفاقی وزیراطلاعات عطا اللہ تارڑ کا کہنا ہے کہ سندھ طاس معاہدے کی یکطرفہ معطلی غیر قانونی ہے، کوئی بھی معاہدہ جب طے پا جاتا ہے تو اس پر عملدرآمد متعلقہ فریقین پر لازم ہے۔
سندھ طاس معاہدے کی معطلی کے تاریخی، قانونی اور تذویراتی پہلو پر رپورٹ کے اجرا کے موقع پر منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سندھ طاس معاہدہ محض کوئی کاغذی دستاویز نہیں یہ پاکستانیوں کی زندگی اور بقا کا مسئلہ ہے۔
واضح رہے کہ بھارت نے گزشتہ سال اپریل میں سندھ طاس معاہدے کو معطل کر دیا تھا جو پاکستان کے تقریباً 80 فیصد زرعی رقبے کو پانی کی فراہمی یقینی بناتا ہے۔ بھارت نے گزشتہ سال اپریل میں مقبوضہ کشمیر کے ایک سیاحتی مقام پہلگام پر ہونے والے حملے کو جواز بناتے ہوئے یہ معاہدہ معطل کردیا تھا، اس حملے میں 26 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔
وفاقی وزیر اطلاعات نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ پاکستان کا دریائے سندھ کے پانی پر ناقابلِ تنسیخ حق ہے، عالمی ثالثی عدالت کا فیصلہ واضح ثبوت ہے کہ پاکستان کا مؤقف قانونی ہے، بھارتی غیر قانونی ہتھکنڈے اور دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے، ہم نے معاملہ عالمی فورمز پراٹھایا۔ عالمی ثالثی عدالت نے بھی پاکستان کے حق اور بھارت کیخلاف فیصلہ دیا تھا۔
