عالمی منڈی میں سونے کی قیمتوں میں کمی دیکھی گئی ہے کیونکہ امریکا میں توقع سے زیادہ مہنگائی کے اعداد و شمار نے شرح سود میں کمی کی امیدوں کو کمزور کر دیا ہے۔
اسپاٹ گولڈ 0.3 فیصد کمی کے ساتھ تقریباً 4,702 ڈالر فی اونس تک آ گیا، جبکہ امریکی گولڈ فیوچرز میں معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ ماہرین کے مطابق مضبوط مہنگائی ڈیٹا کے باعث فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرح سود میں کمی کے امکانات تقریباً ختم ہو گئے ہیں۔
تجزیہ کار کائل روڈا کا کہنا ہے کہ مارکیٹ اب سال کے آخر تک شرح سود میں اضافے کے امکان کو بھی مدنظر رکھ رہی ہے، جس سے سونے پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق اپریل میں امریکی صارفین کی مہنگائی میں نمایاں اضافہ ہوا، جو گزشتہ تین برسوں میں سب سے زیادہ ہے، جس کے بعد سرمایہ کاروں کی توجہ آئندہ معاشی اشاریوں پر مرکوز ہو گئی ہے۔
ادھر امریکی صدر ٹرمپ اور چینی صدر شی کے درمیان اس ہفتے ہونے والی ملاقات بھی سرمایہ کاروں کی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے، جبکہ مشرق وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال بھی مارکیٹ پر اثر انداز ہو رہی ہے۔
دوسری جانب چاندی کی قیمت میں معمولی اضافہ ہوا، جبکہ پلاٹینم اور پیلیڈیم کی قیمتوں میں کمی یا استحکام دیکھا گیا۔
