ایران میں بڑھتی مہنگائی کی وجہ سے روزمرہ استعمال کی ایک معمولی مگر لازمی چیز یعنی انڈے کو سلیبرٹی کا جیسا پروٹول مل رہا ہے، جس کی بنیادی وجہ بڑھتی ہوئی مہنگائی اور انڈے کی آسمانوں کو چھوتی قیمت ہے۔
بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق ایران میں سوشل میڈیا پر انڈوں کیساتھ اپنی تصاویر اور ویڈیوز شیئر کرنے کا ٹرینڈ زور پکڑ رہا ہے جسے مہنگائی کے خلاف خاموش اور علامتی احتجاج کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ صارفین شاپروں میں چند انڈوں کیساتھ تصاویر اور ویڈیوز شیئر کر کہ یہ بتانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ مہنگائی کے باعث ان کے لیے انڈے خریدنا بھی مشکل ہوتا جا رہا ہے۔
ایران میں بنیادی اشیائے خور و نوش کی قیمتوں میں اضافے نے عام لوگوں کے گھریلو بجٹ کو متاثر کیا ہے۔ امریکی ڈالر کی قدر میں مسلسل اضافہ بھی ایرانی معیشت پر دباؤ بڑھا رہا ہے، جس کے نتیجے میں اشیائے ضروریہ مہنگی ہو رہی ہیں۔
روسای اتحادیه و اتاق ها و کارشناسان اجاره ای را ردیف کرده بودند که بگویند افزایش قیمت مرغ بخاطر حذف ارز ترجیحیست نه جنگ!
امروز مرغ ۲۶۰ هزارتومان علی رغم محاصره و دلار ۲۳۰ هزار تومانی!
حالا اجازه هست بپرسیم ۸ سال ۱۵۰ میلیارد دلار ارز ترجیحی یک هفتم قیمت را برای چه دادید؟
۱۵۰ میلیارد دلار چپاولی که میتوانست حقوق معلم و بازنشسته و ادوات نظامی باشد!
میتوانست باعث رشد و توسعه کشور شود!
میتوانست کاری کند که اصلا جنگی اتفاق نیافتد!بازار اینطوری شما را رسوا میکند!
— محمدحسین مصباح (@mohamadmsb) September 15, 2026
