اسلام آباد: ایک نازک سفارتی راستے کو برقرار رکھنے کی کوششوں کے دوران واشنگٹن اور تہران کے درمیان بالواسطہ روابط کو سہولت فراہم کرنے میں پاکستان اپنے خاموش کردار کے حوالے سے غیر معمولی احتیاط کا مظاہرہ کر رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق، اسلام آباد نے دانستہ طور پر خود کو پس منظر میں رکھا ہے تاکہ اس حساس عمل میں اس کا کردار کسی خلل کا باعث نہ بنے۔ صرف چند منتخب حکام ہی اس رابطہ کاری کی اصل نوعیت سے آگاہ ہیں، جبکہ کابینہ کے بیشتر ارکان بھی زیادہ تر بین الاقوامی ذرائع ابلاغ میں آنے والی خبروں کے ذریعے ہی معلومات حاصل کر رہے ہیں۔
صورتحال سے آگاہ حکام نے بتایا کہ پاکستانی حکام نے خاموشی کی ایک سخت پالیسی اختیار کر رکھی ہے، اور غیر رسمی یا آف دی ریکارڈ گفتگو سے بھی اجتناب کیا جا رہا ہے تاکہ جاری کوششوں کی تفصیلات منظرِ عام پر آنے کا کوئی خطرہ پیدا نہ ہو۔ ان کے مطابق مقصد یہ ہے کہ کسی بھی قبل از وقت انکشاف سے اس نازک عمل کو نقصان نہ پہنچے۔
