مصنوعی ذہانت (اے آئی) محض مستقبل کی ٹیکنالوجی نہیں، بلکہ یہ دورِ حاضر میں قوموں کی انتظامی صلاحیت اور ریاستی نظم و ضبط کو جانچنے کا ایک نیا پیمانہ بن چکی ہے۔
سال 2026 ٹیکنالوجی کی تاریخ میں اس لحاظ سے یاد رکھا جائے گا کہ پاکستان اور بھارت نے عالمی سطح پر اپنی اے آئی قیادت (AI Leadership) ثابت کرنے کے لیے میدان سجایا۔ تاہم، ان دونوں ایونٹس کے اختتام پر جو تصویر ابھری، اس نے واضح کر دیا کہ ٹیکنالوجی کے دور میں اصل فتح ‘شور و غوغا’ کی نہیں بلکہ ‘نظام اور نظم و ضبط’ کی ہوتی ہے۔
بھارت نے نئی دہلی کے پرشکوہ بھارت منڈپم میں AI Impact Summit کا انعقاد کیا، جس کا مقصد دنیا کو اپنی عددی برتری اور تکنیکی حجم سے متاثر کرنا تھا۔ لیکن حقیقت اس کے برعکس نکلی۔ ایونٹ کے آغاز سے ہی بدانتظامی نے اثر ڈالنا شروع کر دیا؛ ہزاروں طلبہ اور شرکاء رجسٹریشن کے باوجود دروازوں پر خوار ہوتے رہے، سیکیورٹی کے نام پر گیٹس اچانک بند کر دیے گئے اور انٹرنیٹ (وائی فائی) جیسے بنیادی ڈیجیٹل انفراسٹرکچر نے جواب دے دیا۔
نوبت یہاں تک پہنچی کہ اسٹارٹ اپس کے آلات غائب ہونے کی شکایات سامنے آئیں اور ملک کے آئی ٹی وزیر کو عوامی سطح پر معذرت کرنی پڑی۔ سوشل میڈیا پر غصے کی لہر نے اس ایونٹ کے اصل مقصد یعنی ‘اے آئی مباحث’ کو پس منظر میں دھکیل دیا، اور بھارت کا دعویٰ بدانتظامی کے ملبے تلے دب گیا۔
