ترجمان دفتر خارجہ طاہر اندرابی نے کہا کہ اسلام آباد میں سندھ طاس معاہدے کے حوالے سے منعقدہ بین الاقوامی سیمینار کے شرکا نے معاہدے کے بارے میں کسی بھی یکطرفہ اقدام کو مسترد کر دیا ہے۔ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے اپنے خطاب میں واضح کیا کہ چھ دہائیوں سے نافذ سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر ختم یا مسترد نہیں کیا جا سکتا۔
ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران انہوں نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان بنیادی مسئلہ دہشت گردی نہیں بلکہ بھارتی قیادت کی وہ سوچ ہے جو پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ہمیشہ بین الاقوامی قوانین اور معاہدوں کے احترام پر یقین رکھتا ہے۔
ترجمان نے بتایا کہ پاکستان کی سفارتی کوششوں کے نتیجے میں 22 ایرانی ملاحوں کے عملے کی رہائی ممکن ہوئی، جبکہ پاکستان کی وساطت سے اپنے وطن واپس جانے والے ایرانی شہریوں کی مجموعی تعداد 70 ہو چکی ہے۔
