آسٹریلیا کے انٹرنیٹ ریگولیٹر نے ایپل، گوگل اور میٹا سمیت بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ بچوں کو آن لائن جنسی استحصال اور جنسی بلیک میلنگ (سیکشول ایکسٹورشن) سے مؤثر تحفظ فراہم کرنے میں ناکام رہی ہیں۔
رائٹرز کے مطابق آسٹریلیا کے ای سیفٹی کمیشن کی شفافیت (ٹرانسپیرنسی) رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ متعدد آن لائن پلیٹ فارمز ایسی دستیاب ٹیکنالوجیز کا مؤثر استعمال نہیں کر رہے جو جنسی بلیک میلنگ میں استعمال ہونے والے دھمکی آمیز پیغامات اور مشکوک سرگرمیوں کی بروقت نشاندہی کر سکتی ہیں۔
ای سیفٹی کمشنر جولی اِنمین گرانٹ نے کہا کہ ریگولیٹر نے متعدد مواقع پر ٹیکنالوجی کمپنیوں کو شواہد فراہم کیے کہ مجرم ان کے پلیٹ فارمز کو بچوں کے خلاف جرائم کے لیے استعمال کر رہے ہیں، مگر واضح رہنمائی کے باوجود مؤثر اور بروقت اقدامات نہیں کیے گئے۔
یہ رپورٹ ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب آسٹریلیا 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی سے متعلق قانون پر سختی سے عمل درآمد کی تیاری کر رہا ہے۔ حکومت جون میں ایک نئی قانون سازی بھی متعارف کرا چکی ہے، جس کے تحت ضوابط کی خلاف ورزی کرنے والی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے خلاف عدالت سے رجوع کیا جا سکے گا۔
