افغان نژاد امریکی عائشہ وہاب نے امریکی سیاست میں اہم سنگِ میل عبور کرتے ہوئے امریکی کانگریس کی رکن منتخب ہونے والی پہلی افغان امریکی ہونے کا اعزاز حاصل کرلیا۔
واضح رہے عائشہ وہاب کی کامیابی کو امریکی سیاست میں تارکین وطن اور مسلم امریکی کمیونٹی کی بڑھتی ہوئی سیاسی نمائندگی کے تناظر میں بھی اہم قرار دیا جارہا ہے۔
عائشہ وہاب نے کیلیفورنیا کے 14ویں کانگریشنل ڈسٹرکٹ میں ہونے والے خصوصی انتخاب میں اپنی حریف میلیسا ہرنینڈز کو شکست دی۔ انتخابی کامیابی کے ساتھ ہی وہ امریکی ایوانِ نمائندگان میں پہنچنے والی پہلی افغان امریکی بن گئی ہیں۔
رپورٹس کے مطابق عائشہ وہاب کے خلاف انتخابی مہم کے دوران بیرونی گروپس کی جانب سے لاکھوں ڈالر خرچ کیے گئے۔ ان میں ایسے گروپس بھی شامل تھے جنہیں اسرائیل نواز لابی اے آئی پی اے سی (AIPAC) سے منسلک قرار دیا جاتا ہے۔
اندازوں کے مطابق عائشہ وہاب کی حریف میلیسا ہرنینڈز کی حمایت اور عائشہ وہاب کے خلاف مہم پر اے آئی پی اے سی سے منسلک گروپس نے تقریباً 6.4 ملین ڈالر خرچ کیے۔تاہم بھاری مالی وسائل کے باوجود عائشہ وہاب نے خصوصی انتخاب میں کامیابی حاصل کی اور امریکی سیاست میں افغان نژاد امریکی کمیونٹی کے لیے نئی مثال قائم کردی۔
