امریکی نیوز ویب سائٹ ایکسیوس نے دعویٰ کیا ہے کہ شام کا امریکا اور اسرائیل سے اس کی خفیہ جوہری تنصیب ‘سائٹ 99’ سے ایٹمی مواد منتقل کرنے کا معاہدہ طے پا گیا ہے۔
رپورٹ میں مزید دعویٰ کیا گیا ہے کہ امریکا کی سفارتی کوششوں کے نتیجے میں اس معاملے پر اہم پیش رفت ہوئی ہے اور بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) اس خفیہ تنصیب سے جوہری مواد منتقل کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔
رپورٹ کے مطابق سائٹ 99 پر سابق صدر بشار الاسد کی حکومت کے دور میں مبینہ طور پر ایسا مواد ذخیرہ کیا گیا تھا جس میں ‘یلو کیک’ بھی شامل ہے۔ یہ مواد مبینہ طور پر الکِبار ری ایکٹر کے منصوبے کے لیے استعمال ہونا تھا۔
امریکی حکام کے مطابق مذکورہ مواد براہِ راست جوہری ہتھیار بنانے کے لیے موزوں نہیں، تاہم اسے “ڈرٹی بم” کی تیاری میں استعمال کیا جا سکتا ہے، جس کے باعث اس کی موجودگی کو سکیورٹی کے حوالے سے تشویش ناک قرار دیا جا رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق صدر احمد الشرع کی قیادت میں شامی حکومت نے مواد کو تنصیب سے نکالنے پر رضامندی ظاہر کر دی ہے۔ اس پیش رفت کے پس منظر میں اسرائیل کی جانب سے مزید فوجی کارروائی کی دھمکی بھی اہم سمجھی جا رہی ہے۔
اسرائیلی فورسز اس سے قبل تنصیب کے داخلی راستوں پر بمباری کر چکی ہیں تاکہ وہاں رسائی کو روکا جا سکے۔ حالیہ دنوں میں اسرائیل نے یہ عندیہ بھی دیا تھا کہ اگر جوہری مواد وہاں موجود رہا تو وہ دوبارہ حملہ کر سکتا ہے۔
