مشرقِ وسطیٰ میں بدلتی ہوئی علاقائی صورتحال اور حالیہ کشیدگی کے تناظر میں سعودی عرب کی قیادت میں ایک نئے علاقائی سکیورٹی و سفارتی اتحاد کی تشکیل سامنے آئی ہے۔
اس اتحاد میں پاکستان، مصر، ترکیہ اور قطر سمیت کئی اہم ممالک کو شامل کیا گیا ہے۔ اس کا مقصد خطے میں استحکام، دفاعی تعاون، سفارتی ہم آہنگی اور بحرانوں کے حل کے لیے مشترکہ حکمت عملی اختیار کرنا بتایا جا رہا ہے۔
امریکی جریدے فارن پالیسی کی رپورٹ کے مطابق اس نئے بلاک کی تشکیل ایسے وقت میں ہوئی ہے جب مشرقِ وسطیٰ میں ایران، اسرائیل اور خلیجی ممالک کے درمیان کشیدگی نے خطے کی سکیورٹی کو نئی آزمائش سے دوچار کر رکھا ہے۔ سعودی عرب خطے میں اپنا کردار مزید فعال بنانے کے لیے ایسے شراکت داروں کے ساتھ قریبی تعاون بڑھا رہا ہے جو سفارتی اور عسکری سطح پر مؤثر کردار ادا کر سکتے ہیں۔ پاکستان اس مجوزہ اتحاد میں ایک اہم شراکت دار کے طور پر سامنے آیا ہے۔
اس اتحاد کا دائرۂ کار صرف عسکری تعاون تک محدود نہیں ہوگا بلکہ توانائی کے تحفظ، سمندری راستوں کی سلامتی، انسداد دہشت گردی، انٹیلی جنس شیئرنگ اور علاقائی تنازعات کے سفارتی حل پر بھی توجہ دی جائے گی۔ آبنائے ہرمز اور خلیجی بحری راستوں کے تحفظ کو بھی اہم ترجیحات میں شامل کیا جا رہا ہے۔
