پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی نہ کیے جانے کے حکومتی فیصلے پر سوشل میڈیا پر بحث چھڑ گئی، جہاں متعدد صارفین نے حکومت سے سخت سوالات اٹھاتے ہوئے دعویٰ کیا کہ عوام کو متوقع ریلیف سے محروم رکھا گیا۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر کئی صارفین نے سوال کیا کہ کیا حکومت آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے دباؤ کے باعث پیٹرول کی قیمت کم کرنے میں ناکام رہی، جبکہ بعض نے اسے عوامی مفاد کے برعکس فیصلہ قرار دیا۔
"عالمی منڈی میں اس وقت تیل کی قیمتیں فروری کے بعد کم ترین سطح پر آچکی ہیں۔ حکومتِ پاکستان کی ذمہ داری ہے کہ اس کمی کا فائدہ فوری طور پر عوام تک منتقل کیا جائے اور پیٹرول کی قیمت 225 روپے فی لیٹر مقرر کی جائے۔ حکومت کو کسی صورت آئل کمپنیوں کے مافیا کے ہاتھوں بلیک میل ہونے کی ضرورت… pic.twitter.com/YAmmnn7CdW
— Jamaat-e-Islami Islamabad (@JI_Islamabad) June 27, 2026
دوسری جانب کچھ صارفین کا کہنا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین صرف عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں کی بنیاد پر نہیں ہوتا بلکہ ٹیکس، لیوی، درآمدی لاگت اور دیگر مالی عوامل بھی اس میں اہم کردار ادا کرتے ہیں، اس لیے قیمت برقرار رکھنے کے فیصلے کے پس منظر کو بھی مدنظر رکھنا چاہیے۔
پٹرول کی قیمت کم نا کرنے پر بہت کچھ لکھا سنایا جا رہا ہے میں بھی جب زیادتی ہو بہت بولتا ہوں لیکن حقائق میں نے چیک کئے ہیں اور وہ قیمتیں اسی ریٹ پر رکھنے کا بتا رہے ہیں کای کے پاس اور حقائق ہوں تو بے شک سے ہوں
“پچھلی بار پیٹرول کی قیمت میں 14 روپے اور ڈیزل کی قیمت میں 7 روپے فی…— Aamir Ilyas Rana (@RanaAamirilyas) June 27, 2026
جنگ کے خدشات کو دیکھتے ہوئے قیمتیں بڑھنے سے پہلے ہی سٹاک میں پڑے پٹرول کی قیمتیں جمعے کا انتظار کئیے بغیر راتوں رات پچپن روپے بڑھا کر آئل کمپنیوں کو فائدہ ہوا تب آئل کمپنیاں خاموش رہیں
آج پٹرولیم قیمتوں کو حکومت نے برقرار رکھا ہے باوجود اس کے کہ عالمی منڈی میں قیمتیں چھ فیصد تک…
— Nazim Hussain (@NazimHOfficial) June 27, 2026
