ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے مشیر محسن رضائی نے واضح کیا ہے کہ سپریم لیڈر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات نہیں کریں گے اور موجودہ حالات میں ایسی کسی ملاقات کا کوئی امکان نہیں ہے۔
امریکی نشریاتی ادارے سی این این کو دیے گئے ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ بات چیت کے عمل کو تعطل کا شکار کر رکھا ہے، تاہم اگر امریکا مثبت اقدامات کرے تو دونوں ممالک کے تعلقات میں بہتری کی نئی راہیں کھل سکتی ہیں۔
محسن رضائی کا کہنا تھا کہ ٹرمپ کو اپنے ذاتی مفادات سے بالاتر ہو کر امریکی عوام کے مفادات کو ترجیح دینی چاہیے۔ انہوں نے زور دیا کہ اگر امریکا ایران کے خلاف عائد محاصرہ اور دباؤ کی پالیسی ختم کرے اور ایران کے منجمد اثاثے بحال کرے تو ایران اور امریکا کے مستقبل کے تعلقات کے حوالے سے ایک نیا افق ابھر سکتا ہے۔
