پاکستان کی سینئر اداکارہ عتیقہ اوڈھو نے کہا ہے کہ فن کو سرحدوں سے بالا تر سمجھنا چاہیے، لیکن بھارت کے معاملے میں اپنی خودداری برقرار رکھنا ضروری ہے۔
عتیقہ اوڈھو سے حالیہ ایک پوڈکاسٹ میں پوچھا گیا کہ جب پاکستانی ریپر طلحہ انجم نے نیپال کے ایک کنسرٹ میں بھارتی پرچم اپنے کندھوں پر اوڑھا تو اس بارے میں وہ کیا سوچتی ہیں؟ اس کے جواب میں انہوں نے کہا کہ فن سرحدوں سے آزاد ہے، لیکن ساتھ ہی یہ بھی ضروری ہے کہ دوسروں کے ساتھ ویسا ہی برتاؤ کیا جائے جیسا وہ آپ کے ساتھ کرتے ہیں۔
عتیقہ اوڈھو نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جب بھی بھارت کی شوبز شخصیات پاکستان آئیں، وہ بادشاہوں کی طرح محسوس کر کے واپس گئیں اور انہیں صرف محبت اور احترام ملا، جبکہ ہمارے فلمیں بھارت کے سینماز میں نمائش کے لیے اجازت نہیں پاتیں۔
اداکارہ نے بطور سابق چیئرپرسن یونائیٹڈ پروڈیوسرز ایسوسی ایشن (UPA) بتایا کہ تنظیم نے بھارتی فلموں پر پابندیاں لگائی تھیں کیونکہ ثقافتی تبادلہ صرف ایک طرف سے نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مولا جٹ، ایک خوبصورت اور شاندار فلم، سیاسی وجوہات کی بنا پر بھارت میں نہیں دکھائی گئی۔
