مچھر کن لوگوں کو زیادہ کاٹتے ہیں؟ ماہرِ حیاتیات نے اہم حقائق سے پردہ اٹھا دیا۔
گرمیوں کے موسم میں مچھروں کی تعداد میں اضافے کے ساتھ ان سے بچاؤ کے مختلف گھریلو ٹوٹکے بھی گردش کرنے لگتے ہیں، جن میں لہسن کھانا، وٹامن بی کا استعمال، کیلے سے پرہیز اور سٹرونیلا موم بتیاں جلانا شامل ہیں۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ ان میں سے بیشتر دعوؤں کی حمایت میں مضبوط سائنسی شواہد موجود نہیں۔
ویسٹرن یونیورسٹی کی ماہرِ حیاتیات نوشا کیغوبادی کے مطابق صرف مادہ مچھر انسانوں کو کاٹتی ہیں کیونکہ انہیں اپنے انڈوں کی نشوونما کے لیے خون سے حاصل ہونے والے غذائی اجزا کی ضرورت ہوتی ہے، اسی لیے انسان ان کے لیے خوراک کا ایک اہم ذریعہ ہوتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ مچھر اپنے شکار کو تلاش کرنے کے لیے جسم کی حرارت، سانس سے خارج ہونے والی کاربن ڈائی آکسائیڈ اور جسم کی قدرتی بو کا سہارا لیتے ہیں، ہر انسان کے جسم کی بو اس کے جینیاتی عوامل، جسمانی ساخت اور بعض اوقات حال ہی میں کھائی گئی غذا کے باعث مختلف ہوتی ہے، یہی وجہ ہے کہ کچھ افراد دوسروں کی نسبت زیادہ مچھروں کو اپنی طرف متوجہ کرتے ہیں۔

