وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے پمز اسپتال کے نرسری وارڈ میں گزشتہ روز لگنے والی آگ کے نتیجے میں 14 نومولود بچے جان کی بازی ہار گئے،افسوسناک واقعے کے بعد حفاظتی انتظامات پر کئی سوالات کھڑے ہوگئے مگر پمز اسپتال میں حفاظتی معاملات پر سوالات اٹھنے کا یہ پہلا موقع نہیں ہے۔
جیونیوز کے پروگرام ’آج شاہزیب خانزادہ کے ساتھ‘ میں انکشاف کیا گیا کہ تقریباً ڈیڑھ ماہ قبل 6 جولائی کو اسپتال کے نرسنگ ہاسٹل کے استقبالیہ حصے میں آگ لگنے کا واقعہ پیش آیا تھا۔ رپورٹ کے مطابق آگ طالبات تک پھیل گئی تھی، تاہم اس واقعے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا جبکہ کچھ فرنیچر کو نقصان پہنچا تھا۔
اس واقعے کے بعد بھی پمز اسپتال میں فائر سیفٹی انتظامات پر سنجیدہ تحفظات سامنے آئے تھے اور پمز کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر نے خود اس واقعے کی انکوائری کی تھی۔
اس سے قبل جون 2023 میں بھی پمز اسپتال کے ایمرجنسی وارڈ میں شدید گرمی اور گھٹن کے باعث کم از کم 4 مریضوں کے جاں بحق ہونے کی اطلاع سامنے آئی تھی۔ اس وقت وارڈ کا ایئر کنڈیشننگ سسٹم کام نہیں کررہا تھا اور شدید گرمی کے باعث مریضوں کی حالت مزید خراب ہونے کی اطلاعات تھیں۔
