ورلڈ بینک کے مطابق مشرقِ وسطیٰ، شمالی افریقہ، افغانستان اور پاکستان (مناپ) میں بسنے والے ‘انتہائی غریب’ افراد میں سے 48 فیصد اکیلے پاکستان میں رہتے ہیں۔
بینک کی اکتوبر 2026 کی جاری رپورٹ، ‘تقسیم سے مواقع تک: اے آئی، جابز اور گروتھ’، کے مطابق روزانہ 3 ڈالر سے کم آمدنی پر گزارا کرنے والے انتہائی غریب افراد میں سے تقریباً 48 فیصد صرف پاکستان میں ہیں۔ افغانستان، شام اور یمن ملا کر مزید 47 فیصد ہیں، یعنی ان 4 ممالک پر خطے کے انتہائی غریبوں کا تقریباً 95 فیصد بوجھ ہے۔
رپورٹ کے مطابق پاکستان میں غربت مزید بڑھ گئی ہے جبکہ رواں مالی سال کے دوران مجموعی اقتصادی شرح نمو 3.8 فیصد رہنےاور مہنگائی کی شرح 8.2 فیصد رہنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ معاشی ایڈجسٹمنٹ کے طویل دور نے افراد کی حقیقی آمدنی اور روزگار کے مواقع کو مزید کم کیا ہے۔
عالمی بینک کے مطابق پاکستان میں 2018 سے 2025 کے دوران روزانہ 3 ڈالر کمانے والے غریب افراد کی شرح میں 6.4 فیصد پوائنٹس اضافہ ہوا جبکہ روزانہ 4.20 ڈالر آمدنی والے افراد میں یہ اضافہ 3.2 فیصد پوائنٹس رہا۔
