سال 2026 کے آغاز کے ساتھ ہی عالمی ماہرینِ صحت نے خبردار کیا ہے کہ آنے والے مہینوں میں دنیا کو جن بڑے صحت کے خطرات کا سامنا ہو سکتا ہے، وہ کسی بالکل نئے وائرس کے بجائے پرانے وائرسوں کی زیادہ خطرناک اور بدلی ہوئی اقسام سے پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔
ماہرین کے مطابق موسمیاتی تبدیلی، عالمی سطح پر سفر میں اضافہ اور انسانوں و جانوروں کے درمیان بڑھتا ہوا قریبی رابطہ ان وائرسوں کے دوبارہ ابھرنے کی بنیادی وجوہات میں شامل ہیں۔ ان عوامل کی وجہ سے وائرس کو نئی شکل اختیار کرنے اور تیزی سے پھیلنے کے زیادہ مواقع مل رہے ہیں۔
متعدی امراض کے ماہرین کا کہنا ہے کہ دنیا اس وقت اچانک وباؤں کے خطرے سے پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ دوچار ہے، جبکہ کئی ممالک میں بیماریوں کی نگرانی، تشخیص اور ہنگامی ردِعمل کے نظام اب بھی کمزور ہیں۔
انفلوئنزا اے: سب سے سنگین خدشہ
ماہرین کی ترجیحی فہرست میں انفلوئنزا اے وائرس بدستور سرفہرست ہے، کیونکہ اس میں تیزی سے جینیاتی تبدیلی کی صلاحیت پائی جاتی ہے اور یہ مختلف انواع کو متاثر کر سکتا ہے۔ 2009 کی سوائن فلو وبا کی مثال دی جاتی ہے، جس کے نتیجے میں دنیا بھر میں لاکھوں افراد جان کی بازی ہار گئے تھے۔
