Daily Systematic Metro News Breaking News
پاکستان

لاہور ہائیکورٹ کا سرکاری ملازمین کے تبادلوں سے متعلق اہم فیصلہ

لاہور ہائیکورٹ نے سرکاری ملازمین کے تبادلوں سے متعلق اہم فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ سرکاری ملازمت میں تبادلہ سروس کا حصہ ہے اور کوئی بھی ملازم اپنی مرضی کے اسٹیشن پر تعیناتی کا قانونی دعویٰ نہیں کر سکتا۔

عدالت نے واضح کیا کہ محض آٹھ دن کے اندر تبادلہ ہونا بذاتِ خود غیر قانونی نہیں ہے، جب تک تبادلے میں انتظامی بدنیتی ثابت نہ ہو، عدالت اس معاملے میں مداخلت نہیں کرے گی۔

یہ فیصلہ جسٹس راحیل کامران نے چار صفحات پر مشتمل تحریری حکم میں جاری کیا، عدالت نے بلڈنگ انسپکٹر محمد عمران ارشاد کی تبادلے کے خلاف دائر درخواست خارج کر دی، درخواست گزار نے تبادلے کے محض آٹھ دن بعد عدالت سے رجوع کیا تھا۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں مزید قرار دیا کہ پنجاب لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2025 کے نفاذ کے بعد سابقہ قانون موثر نہیں رہا اور نئے قانون میں ملازمین کی تعیناتی کی مدت یعنی سیکیورٹی آف ٹینور کا کوئی تحفظ موجود نہیں لہٰذا محکمہ بلدیات کے ملازمین کسی مخصوص مدت تک ایک ہی جگہ تعیناتی کا حق نہیں رکھتے۔

Related posts

پشاور ہائیکورٹ نے زرتاج گل کو حفاظتی ضمانت دے دی

Mobeera Fatima

آئینی بینچ نے احتجاج کے دوران ہلاکتوں پر ازخود نوٹس لینے کی استدعا مسترد کر دی

Mobeera Fatima

من پسند نمبروں کی 3 کیٹیگریز، اپنا یا کسی پیارے کا نام بھی لکھوایا جا سکے گا، ڈی جی ایکسائز

Mobeera Fatima

Leave a Comment