بھارتی ریاست مدھیہ پردیش کے شہر اجین میں تاریخی شاہی مسجد کے ایک حصے کو سڑک کشادگی منصوبے کے تحت گرانے کے معاملے پر پیدا ہونے والی کشیدگی طوالت اختیار کرگئی ۔
بھارت میں انتہا پسند بی جے پی حکومت کے زیر سرپرستی آپومجی، اجمیر شریف اور سہارنپور کلکٹریٹ مسجد سمیت صدیوں پرانی اسلامی عبادت گاہیں ہندوتوا مہم کا نشانہ بنی ہیں۔
تازہ واقعہ مدھیہ پردیش کے شہر اجین میں پیش آیا ہے جہاں شاہی مسجد کے ایک حصے کو منہدم کرنے کے معاملے پر کشیدہ صورتحال پیدا ہو گئی ۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق مسلم کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے سیکڑوں افراد نے اتوار کی رات مسجد کے قریب اور مسجد کے اندر جمع ہو کر مجوزہ کارروائی کے خلاف احتجاج کیا۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ مسجد کا ڈھانچہ سڑک کشادگی منصوبے کی زد میں نہیں آنا چاہیے۔
Hundreds of Muslims have gathered in the Indian city of Ujjain to protest the partial demolition of a mosque they say is more than 600 years old.
The BJP-led state government says the action is needed to widen roads ahead of the 2028 Hindu pilgrimage. https://t.co/8bOyhcesoG
— Al Jazeera English (@AJEnglish) September 27, 2026
پولیس اور میونسپل حکام اتوار کی رات مسجد کے قریب بھاری مشینری کے ساتھ پہنچے تھے تاہم بڑی تعداد میں لوگوں کے جمع ہونے کے باعث کارروائی آگے نہ بڑھ سکی۔ احتجاج کرنے والے افراد نے رات مسجد میں گزاری اور انتظامیہ سے مسجد کے حصے کو منہدم نہ کرنے کا مطالبہ کیا۔
Modi’s Police brutality beating up Muslims, who have been protesting against the demolition of a 600 year old Shahi Mosque in Ujjain, India. https://t.co/XAXgCSdYx7
— Ashok Swain (@ashoswai) September 28, 2026
