پاکستان کے اولمپئن جیولن تھروور ارشد ندیم نے انجری سے صحت یاب ہونے کے بعد عالمی مقابلوں میں واپسی کی تاہم سوئٹزرلینڈ میں منعقدہ لوسرن انٹرنیشنل میٹ میں ان کی کارکردگی توقعات کے مطابق نہ رہی اور وہ نویں پوزیشن حاصل کر سکے۔
ورلڈ ایتھلیٹکس کانٹینینٹل ٹور سلور میٹنگ کا درجہ رکھنے والے اس ایونٹ میں مختلف ممالک کے 18 اتھلیٹس نے شرکت کی۔ ارشد ندیم کی ایک بھی تھرو 80 میٹر کی حد عبور نہ کر سکی جب کہ ان کی بہترین کوشش 78.47 میٹر رہی۔
مقابلے میں جرمنی کے جولین ویبر نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے 87.54 میٹر کی تھرو کے ساتھ پہلی پوزیشن حاصل کی۔
یہ مقابلہ ارشد ندیم کے لیے انجری کے بعد پہلا عالمی ایونٹ تھا، جسے آئندہ بڑے مقابلوں کی تیاری کے تناظر میں اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
ارشد ندیم اب اپنی توجہ کامن ویلتھ گیمز پر مرکوز کریں گے جہاں وہ اپنے جیولن تھرو کے ٹائٹل کا دفاع کریں گے۔ گلاسگو میں شیڈول کامن ویلتھ گیمز میں جیولن تھرو کا مقابلہ 30 جولائی کو منعقد ہوگا۔
