رانا ثنااللہ کا کہنا تھا کہ سہیل آفریدی لاہور میں افراتفری پھیلانا چاہتے تھے، تحریک انصاف نے اسلام آباد انتظامیہ کے ساتھ احتجاج کے حوالے سے کچھ بھی بیٹھ کر طے نہیں کیا۔
ان کے مطابق پی ٹی آئی کی جانب سے 27 ستمبر کے احتجاج کے لیے ابھی تک کوئی ایسا معاہدہ یا انتظامی اتفاق سامنے نہیں آیا جس کی بنیاد پر احتجاج کو معمول کے سیاسی مظاہرے کے طور پر دیکھا جائے۔
انہوں نے کہا کہ اگر کوئی سیاسی جماعت مسلح جتھے کی صورت میں آکر نظام تہہ و بالا کرنے کی کوشش کرے تو کیا ریاست کے پاس کارروائی کا اختیار نہیں ہوگا؟ رانا ثنااللہ کے مطابق پی ٹی آئی کو اسلام آباد میں داخل ہونے دینے کا مطلب شہر کی سلامتی کو داؤ پر لگانا ہوگا۔
وزیراعظم کے مشیر نے دعویٰ کیا کہ تحریک انصاف حکومت گرانا اور بانی پی ٹی آئی عمران خان کو رہا کرانا چاہتی ہے اور 27 ستمبر کو صورت حال واضح ہوجائے گی، ان کے بقول تحریک انصاف کے رہنماؤں کی غلط فہمی بھی 27 ستمبر کو دور ہوجائے گی۔
رانا ثنااللہ نے مزید کہا کہ اسلام آباد کی سکیورٹی کے پیش نظر اگر احتجاجی قافلے خیبر پختونخوا سے وفاقی دارالحکومت کی جانب بڑھتے ہیں تو اسلام آباد کے بجائے خیبر پختونخوا سے آنے والے راستوں کو بند کیا جائے گا۔
