بی سی سی آئی کے سیکریٹری دیواجیت سائیکیا نے بھارتی خواتین کرکٹ ٹیم کی جانب سے ویمنز ایشیا کپ کی ٹرافی ایشین کرکٹ کونسل کے چیئرمین محسن نقوی سے وصول نہ کرنے کے معاملے پر وضاحت پیش کردی۔
ایک انٹرویو میں دیواجیت سائیکیا نے کہا کہ ایشیا کپ میں ٹرافی ایک متنازع معاملہ ہے۔
Watch: On Indian women’s cricket team did not accept the Women’s Asia Cup trophy from ACC Chair Mohsin Naqvi, BCCI Secretary Devajit Saikia says, "Trophy is a controversial thing in the Asia Cup, Our men’s team won the Asia Cup a year and a half ago. And our whole situation, since the April 2025 Pahalgam incident, the entire situation changed after that. So, after that, there was pressure on us from all our country’s citizens that we shouldn’t keep any relations with our neighboring country and not play cricket with them. But our government has a policy that we must play against every country in multinational tournaments…”
— IANS (@ians_india) September 13, 2026
بی سی سی آئی سیکریٹری کے مطابق اپریل 2025 میں پہلگام واقعے کے بعد صورتحال مکمل طور پر تبدیل ہوگئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ اس واقعے کے بعد بھارت کے شہریوں کی جانب سے دباؤ تھا کہ ملک کو اپنے ہمسایہ ملک کے ساتھ تعلقات نہیں رکھنے چاہئیں اور پاکستان کے ساتھ کرکٹ بھی نہیں کھیلنی چاہیے۔
دیواجیت سائیکیا نے کہا کہ اس صورتحال کے باوجود بھارتی حکومت کی پالیسی یہ ہے کہ کثیر ملکی ٹورنامنٹس میں ہر ملک کے خلاف کھیلنا ضروری ہے۔انہوں نے کہا کہ اسی پالیسی کے تحت بھارت کثیر ملکی مقابلوں میں شرکت کرتا ہے اور ان ٹورنامنٹس میں دیگر ممالک کے خلاف کھیلتا ہے۔
