یمن میں آئینی حکومت کی حمایت کرنے والے عرب اتحاد نے کہا ہے کہ حوثی ملیشیا سعودی عرب کے قومی اثاثوں اور بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کے لیے حملے جاری رکھے ہوئے ہے۔
اتحاد کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی کے ایکس پر جاری ایک بیان کے مطابق حوثیوں نے بدھ 9 ستمبر کو خمیس مشیط، ابہا اور جازان شہروں پر بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے حملے کیے۔
میجر جنرل المالکی نے کہا کہ حملوں کا تسلسل حوثی ملیشیا کے ’انتہاپسندانہ نظریے‘ اور سعودی عرب میں شہریوں کو نشانہ بنانے کی پالیسی کی عکاسی کرتا ہے۔
https://t.co/TLKPYpxJqa
— المتحدث الرسمي باسم قوات التحالف (@CJFCSpox) September 9, 2026
انہوں نے کہا کہ اتحاد کی مشترکہ افواج ان حملوں کا ذمہ دارانہ انداز میں جواب دیں گی تاکہ سعودی عرب کی خودمختاری اور قومی اثاثوں کے ساتھ شہریوں اور شہری تنصیبات کا بھی تحفظ کیا جا سکے۔
ترجمان کے مطابق یہ کارروائی بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے منشور کی شق 51 کے تحت حقِ دفاع کے اصول کے مطابق کی جائے گی، جبکہ بین الاقوامی انسانی قانون اور اس کے مسلمہ قواعد کی بھی پابندی کی جائے گی۔
Alert: The danger has passed in Khamis Mushait Governorate. For your safety, continue following #CivilDefense instructions and avoid gathering and filming. In case of emergency, call (998). https://t.co/XpTAz2Xfo7
— الدفاع المدني السعودي (@SaudiDCD) September 10, 2026
