اسلام آباد: دفاعی تجزیہ کار سید محمد علی نے کہا ہے کہ مکہ دفاعی معاہدے کا عملی امتحان سامنے آچکا ہے، حوثیوں کے سعودی عرب پر حملوں کے بعد پاکستان کو سعودی عرب کے دفاع کے لیے اپنے معاہداتی کردار پر عمل کرنا ہوگا۔
دفاعی تجزیہ کار سید محمد علی نے کہا کہ مکہ معاہدے کا ٹیسٹ کیس آچکا ہے۔ ان کے مطابق سعودی عرب پر حوثیوں کے حالیہ حملوں کے تناظر میں پاکستان کی بحریہ سعودی عرب کے دفاع کے لیے سمندری حدود میں موجود ہے جبکہ پاک فضائیہ بھی سعودی عرب میں موجود ہے۔
تجزیہ کار کے مطابق پاکستان کی فوج بھی سعودی عرب کے دفاع میں اپنا کردار ادا کر رہی ہے اور حملوں کو ناکام بنانے کی کوششوں میں شریک ہے
انہوں نے کہا کہ مکہ دفاعی معاہدے کے تحت پاکستان کا کردار دفاع تک محدود ہے، جارحیت یا جوابی کارروائی اس معاہدے کا مقصد نہیں۔ ان کے بقول پاکستان کو سعودی عرب پر ہونے والے حوثی حملوں کو ناکام بنانے کے لیے دفاعی ذمہ داری ادا کرنا ہوگی۔
دفاعی تجزیہ کار نے مزید کہا کہ مکہ معاہدے کو کسی جارحانہ کارروائی کے معاہدے کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے بلکہ اس کا بنیادی مقصد رکن ممالک کی سلامتی اور دفاع کو یقینی بنانا ہے۔
