اسرائیل کی ایک عدالت نے انتہا پسند وزیرِ قومی سلامتی اتمار بن گویر کے اس متنازع منصوبے پر عمل درآمد عارضی طور پر روک دیا ہے جس کے تحت فلسطینی قیدیوں کو رکھنے والی کتزیوت جیل کے اطراف مگرمچھ چھوڑنے کی تجویز دی گئی تھی۔
الجزیرہ کے مطابق عدالتی فیصلہ جانوروں کے حقوق کے لیے سرگرم تنظیم “لیٹ دی اینیملز لِو” کی جانب سے دائر درخواست پر سامنے آیا، جس میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ مگرمچھوں کو جیل کے اطراف رکھنے کا منصوبہ نہ صرف غیر ضروری ہے بلکہ اس سے جانوروں کی زندگی اور فلاح کو بھی خطرات لاحق ہوسکتے ہیں۔
عدالت نے اپنے حکم میں کہا کہ درخواست گزار تنظیم کی جانب سے اٹھائے گئے اعتراضات سنجیدہ نوعیت کے ہیں اور اس بات کا جائزہ لیا جانا ضروری ہے کہ آیا مجوزہ منصوبہ جانوروں کے تحفظ سے متعلق قوانین کی خلاف ورزی تو نہیں کرتا۔ اسی بنیاد پر منصوبے پر عمل درآمد کو فی الحال روک دیا گیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق اسرائیلی وزیرِ قومی سلامتی اتمار بن گویر نے حالیہ دنوں میں فلسطینی قیدیوں کے لیے سخت ترین حفاظتی اور انتظامی اقدامات کی حمایت کرتے ہوئے کتزیوت جیل کے گرد مگرمچھ رکھنے کی تجویز دی تھی۔ ناقدین نے اس منصوبے کو غیر انسانی، اشتعال انگیز اور غیر معمولی قرار دیا تھا۔
