امریکا اور ایران کے درمیان دوبارہ بڑھتی ہوئی کشیدگی نے جون میں طے پانے والے عبوری معاہدے کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ اس کی بنیادی وجہ آبنائے ہرمز، ایران کے جوہری پروگرام اور دیگر اہم معاملات پر اختلافات ہیں، جس سے خطے میں دیرپا امن کی کوششوں کو شدید دھچکا لگ رہا ہے۔
جون میں طے پانے والی 14 نکاتی اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے تحت جنگ کے خاتمے اور آبنائے ہرمز کو تجارتی جہازوں کے لیے کھولنے کا اعلان کیا گیا تھا، تاہم تجزیہ کاروں کے مطابق معاہدے میں کئی اہم نکات مبہم چھوڑ دیے گئے تھے، جبکہ ایران کے جوہری پروگرام جیسے حساس معاملات کو مذاکرات کے دوسرے مرحلے تک مؤخر کر دیا گیا تھا۔
فریقین نے حالیہ دنوں میں معاہدے کے بارے میں کیا کہا؟
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ ہفتے ابتدائی جنگ بندی معاہدے کو “ختم” قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایرانی حکام اپنے طے شدہ وعدوں پر عمل نہیں کر رہے۔ پیر کے روز انہوں نے یہ بھی کہا کہ امریکا غالباً آبنائے ہرمز کا کنٹرول سنبھال لے گا۔
دوسری جانب ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے پیر کے روز واشنگٹن پر الزام عائد کیا کہ امریکا نے اپنی مسلسل خلاف ورزیوں کے ذریعے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کو “بحران” میں دھکیل دیا ہے۔
ادھر ثالثی کا کردار ادا کرنے والے پاکستان نے فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ معاہدے کے تحت کیے گئے اپنے وعدوں کی مکمل پاسداری کریں۔
