نیوزی لینڈ سے تعلق رکھنے والے عالمی شہرت یافتہ اداکار سیم نیل 78 برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔ اہلِ خانہ نے ان کی وفات کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ اداکار کا انتقال پیر کے روز آسٹریلیا کے شہر سڈنی میں ہوا، جس سے فلمی دنیا اور ان کے مداحوں میں غم کی لہر دوڑ گئی۔
خاندانی بیان کے مطابق سیم نیل کی وفات اچانک اور غیر متوقع تھی، تاہم اہلِ خانہ نے اس بات پر اطمینان کا اظہار کیا کہ وہ اپنی وفات سے قبل کینسر سے مکمل طور پر صحت یاب ہو چکے تھے۔

خاندان کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ اگرچہ ان کا بچھڑ جانا ناقابلِ تلافی نقصان ہے، لیکن یہ تسلی ضرور ہے کہ وہ کینسر سے نجات پا چکے تھے۔
بیان میں سڈنی کے نجی اسپتال کے ڈاکٹروں، نرسوں اور طبی عملے کا بھی خصوصی شکریہ ادا کیا گیا، جنہوں نے دورانِ علاج سیم نیل کی بھرپور دیکھ بھال کی اور ہر مرحلے پر ان کا ساتھ دیا۔
کینسر سے صحت یابی
رواں برس اپریل میں سیم نیل نے خود اعلان کیا تھا کہ وہ اسٹیج تھری بلڈ کینسر کے علاج کے بعد مکمل طور پر صحت یاب ہو چکے ہیں۔ ان کی اس خوشخبری نے دنیا بھر میں ان کے مداحوں کو خوشی اور اطمینان بخشا تھا، تاہم چند ماہ بعد ان کی اچانک وفات نے سب کو افسردہ کر دیا۔
کیرئیر پر ایک نظر
سیم نیل نے1970کی دہائی میں آسٹریلوی سینماسےعالمی شہرت حاصل کی،جراسک پارک اورآسکرایوارڈیافتہ فلم دی پیانومیں یادگارکرداراداکیے،اس کے علاوہ بھی انہوں نے کئی دہائیوں پر محیط اپنے شاندار کیریئر میں متعدد کامیاب فلموں اور ٹی وی ڈراموں میں اداکاری کے جوہر دکھائے، جنہیں ناقدین اور مداحوں نے یکساں طور پر سراہا۔

جراسک پارک کا ایک سین
آسٹریلیا کے وزیراعظم انتھونی البانیز نے بھی سیم نیل کی وفات پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایک باوقار، سنجیدہ اور باصلاحیت فنکار تھے، جنہوں نے بیماری کا بھی اسی حوصلے، وقار اور مزاح کے ساتھ مقابلہ کیا جس انداز سے وہ اپنی اداکاری کے ذریعے ناظرین کے دل جیتتے رہے۔
