پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی نے بتایا ہے کہ ملک کے 22 شہروں میں 5G سروسز کا آغاز کر دیا گیا ہے، جبکہ اسلام آباد کے چار سیکٹرز میں یہ سروس فعال ہو چکی ہے۔
یہ بریفنگ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے آئی ٹی کے اجلاس میں دی گئی، جس کی صدارت سید امین الحق نے کی۔ حکام کے مطابق سیکٹر ایف-8 میں کیے گئے ٹیسٹس میں انٹرنیٹ کی رفتار تقریباً 100 ایم بی پی ایس ریکارڈ کی گئی۔
پی ٹی اے حکام کا کہنا تھا کہ آئندہ 5G اسپیکٹرم نیلامی کے بعد نہ صرف انٹرنیٹ کارکردگی مزید بہتر ہوگی بلکہ 4G کی اوسط رفتار بھی 40 ایم بی پی ایس تک پہنچنے کی توقع ہے۔
تاہم کمیٹی ارکان نے ٹیلی کام سروسز کے مجموعی معیار پر تشویش کا اظہار کیا۔ رکن صادق میمن نے سوال اٹھایا کہ اگر موجودہ سروسز کا معیار بہتر نہ ہوا تو 5G یا دیگر نئی ٹیکنالوجیز کا فائدہ محدود رہے گا۔
