پشاور: خیبرپختونخوا حکومت نے صوبے کے سرکاری اسکولوں میں چھٹی جماعت سے بارہویں جماعت تک آرٹیفیشل انٹیلیجنس (اے آئی) کو باقاعدہ نصاب کا حصہ بنا کر پڑھانے کا فیصلہ کر لیا۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق اس وقت خیبر پختونخوا میں اے آئی کی تدریس کے لیے 5 ہزار 525 آئی ٹی لیبارٹریز کی کمی ہے۔ ہائیر سیکنڈری اسکولوں میں 225 جبکہ مڈل اسکولوں میں 3 ہزار 515 آئی ٹی لیب درکار ہیں۔ جو تاحال دستیاب نہیں ہیں۔
محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم کے مطابق اسکولوں میں پڑھائے جانے والے کمپیوٹر سائنس کے موجودہ نصاب میں اے آئی سے متعلق مواد شامل نہیں۔ جس کے باعث نصاب میں بڑی تبدیلیاں ناگزیر قرار دی جا رہی ہیں۔ منصوبے کے تحت مختلف جماعتوں کے نصاب میں 35 سے 50 فیصد تک اے آئی سے متعلق مواد شامل کیا جائے گا۔
اے آئی کی مؤثر تدریس کے لیے محکمہ تعلیم نے 7 ہزار 555 آئی ٹی اساتذہ کی بھرتی کا بھی فیصلہ کیا ہے۔ تاکہ طلبا کو جدید ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ کیا جا سکے۔
